عمران خان صاحب!۔۔۔ زبان کا کہا مارتا ہے !

ایک عرصہ لگتا ہے سمجھنے میں کہ مشکل سوالات سے ہی حل جنم لیتا ہے۔ سوال کے بغیر علم کا کوئی وجود ممکن نہیں اور علم کے بغیر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ قوموں پر مشکل حالات آیا کرتے ہیں، سونا چوٹ کے بعد ہی کندن بنتا ہے۔ لیکن ان اقوام میں عظیم…

یعنی یقیں سے ہو مفر، گویا گماں کی خیر ہو!

پاکستان میں آج کل حالات کچھ عجیب ہیں، پہلی نگاہ میں تو سمجھ ہی نہیں آتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے دماغوں کو اتنی زیادہ الجھنوں میں الجھا لیا ہے کہ ہم کوئی نہ کوئی چھپا نقطہ تلاش کرنے میں لگ جاتے ہیں اور سامنے کی بات مکمل طور پر…

!یہ کھیل آسان نہیں میاں

پاکستان ایسے ملک میں کہ جہاں جمہوریت کی بنیادیں نہایت کمزور و کھوکھلی ہیں وہاں عوامی ادارے عموماً اہمیت نہیں رکھتے۔ ایک مناسب سی دلیل ہے کہ بھئی اگر رکھتے ہوتے تو جمہوریت مظبوط نہ ہوتی؟ خیر، قومی اسمبلی کا پہلا فورمل اجلاس گزشتہ دنوں ہوا۔…

ہم ایسے لوگوں کا نام و نسب تماشا ہے!

شدت پسندی ہمارے معاشرے کا ایک سنگین المیہ بن چکی ہے اور اس پر افسوس تو یہ کہ ہم اس کا ادراک بھی نہیں کر رہے۔ عدم برداشت ہماری رگ و جاں میں کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ فرق کو تسلیم کرنا تو ہم نے سیکھا ہی نہیں ہے۔ مہذب معاشروں میں فرق سیکھنے کی علامت…

سیاست میں ضروری ہے، رواداری سمجھتا ہے!

مزاج کا انسان کی شخصیت بنانے یا بگاڑنے میں بہت عمل دخل ہوتا ہے، یا یوں کہیں مزاج ہی ہوتا ہے جو شخصیت بناتا ہے۔ انسانوں کی طرح سیاسی جماعتوں کے بھی مختلف مزاج ہوتے ہیں۔ عموماََ رہنماؤں اور کارکنوں کا مزاج ایک سا ہی ہوتا ہے۔ جس طرح سیاسی…

غزل میں رمز و کنایہ بہت ضروری ہے !

کسی بھی فرد یا ادارے کے کامیاب یا ناکام ہونے میں اس کے مشیروں کابہت ہاتھ ہوتا ہے۔ کوئی فرد اس وقت ہی کامیاب ہوتا ہے، جب وہ خود ایک بہتر فیصلہ کرنے کی استطاعت رکھتا ہو یا اس کے مشیر اس فرد کو درست وقت پر درست مشورہ دیں۔ مشیروں کا کردار لوگوں…

مردہ سماعتوں سے نہ کر ذکر!

عدالتیں اس نظام کا ایک بہت پرانا حصہ ہیں۔ عدالت ایک ایسے احاطے کو کہا جاتا ہے، جہاں انصاف ہو سکے۔ دو لوگ اس احاطے کا رخ تب کرتے ہیں جب انہیں کسی بات پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکے تو وہ کیسے تیسرے کو اپنا بڑا بناتے ہیں اور اس سے فیصلہ کرواتے ہیں۔…

یہ معزز منافقیں! مِری جاں

ایک کافی پرانی سطر ہے جو آج کل تواتر سے میرے ذہن کے تاریک گوشوں میں گردش کر رہی ہے کہ یہ دنیا عبرت کی جاہ ہے تماشا نہیں ہے۔ مجھ ایسے سیکیولر لبرل کے لئے ایسی چیزیں تحریر میں شامل کرنا مشکل ہوتا ہے مگر بہرحال قدرت چند اصولوں کے تحت ہمیشہ سے…

شیلے کی نظم ملنے لگی روحِ میر سے!

بحیثیت قوم ہم مطالعے سے دور رہے ہیں۔ فیسبک اسکرولنگ میں تو ہم بہت آگے ہیں مگر کتب بینی تو ہماری سرشت میں شروع سے ہی نہیں ہے۔ ورنہ ہمیں علم ہوتا کہ تاریخ میں ان تہذیبوں کا انجام کیا ہوا ہے، جنہوں نے اپنی ہی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی…

ہم بھی کیا لوگ ہیں! تاریخ کے دھتکارے ہوئے!

یوں تو برصغیر کی یہ ہی تاریخ ہے لیکن متحدہ ہندوستان جس کو گریٹر انڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی شروع سے ایک ہی رمز رہی ہے، ان لوگوں نے ہمیشہ طاقت کے بت کے حضور اپنے ضمیروں کی بلیاں چڑھائے ہیں۔ کیا کوئی غوری، کیا کوئی نادر شاہ، کیا کوئی غزنوی،…