نام شاہین ، چلے تو چاند تک نہ چلے تو شام تک

زیادہ پرانی نہیں بلکہ پچھلے سال کی بات ہے ۔ابوظہبی کا میدان تھا پاکستان کو سری لنکا کی کمزور ٹیم کیخلاف جیت کیلئے صرف ایک سو چھتیس رنز درکار تھے ۔ پوری قوم بے فکر تھی کہ میچ شروع ہوگا تو ایک دو گھنٹے میں گرین شرٹس با آسانی فتح سمیٹ کر…

معیشت کی خراب پچ، اپوزیشن کا باؤنسراور کپتان کی بلے بازی

ایک حکایت ہے کہ ایک کسان کا باغ تھا جس میں بہت لذیذ پھلوں کی پیداوار ہوتی تھی ۔ ایک روز بادشاہ کا گزر ہوا ۔ اس نے کسان سے پھل کھانے کی فرمائش کی ۔ جب پھل کھایا تو اس کی نیت خراب ہو گئی ۔ اس نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ اس کسان کا باغ شاہی…

شریف خاندان کا انجام، جو کہا وہی ہوا

2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے سادہ اکثریت حاصل کی اور حلیف رہنماؤں کے ساتھ ملکر اپنی حکومت قائم کی۔ یوں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے۔ شروع شروع میں سب اچھا رہا, مگر پھر نواز شریف اداروں میں مداخلت اور ان پر اپنے فیصلے تھوپنے…

 الیکشن کا انعقاد اتنی بھاری قیمت پر؟

2002 میں الیکشن ہوئے اور ق لیگ برسراقتدار آئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے پانچ سالہ مدت پوری کی۔ پھر 2008 میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا اور پیپلز پارٹی نے حکومت سنبھالی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی جمہوری حکومت نے پانچ سال مکمل…

 نواز شریف کے انجام کا آغاز

شیخ سعدی بیان کرتے ہیں کہ ایک گدھ اور چیل کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ دونوں میں کس کی نگاہ زیادہ تیز ہے۔ گدھ نے بلندی سے زمین پر دیکھتے ہوئے کہا کہ میں زمین پر گندم کا ایک دانہ پڑا ہوا صاف دیکھ رہا ہوں۔ چیل بولی نیچے چل کر دیکھتے ہیں اگر…

قطرہ قطرہ سے بنا مسائل کا دریا

ایک حکایت ہے کہ ایک اونٹ بیٹھا سو رہا تھا۔ اس کی نکیل زمین پر گری ہوئی تھی ۔ وہاں سے ایک چوہے کا گزر ہوا۔ اس نے نکیل تھامی۔ اور اونٹ کو جگا کر بولا تیری نکیل میرے ہاتھ میں ہے۔ اب میں تیرا سردار ہوں، چل میرے پیچھے۔ اونٹ چوہے کے پیچھے پیچھے…

چڑیا والے پنکچر بابا کی نوٹنکی سے لاہور پنکچر

ایک حکایت ہے کہ ایک آدمی کسی راستے سے گزر رہا تھا۔ اس نے ایک بھوک سے نڈھال بندر دیکھا۔ اس شخص کو ترس آیا اور بندر کو اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کو کھانا کھلایا۔ کھانا کھاتے ہوئے بندر کے منہ پر مکھیاں بیٹھنے لگیں۔ اس شخص نے ایک چھڑی پکڑی اور اس…

 میرے رشکِ قمر

کہا جاتا ہے کہ حجاج بن یوسف کے زمانے میں ایک ایسے بزرگ تھے جن کی دعا قبول ہوتی تھی۔ ایک دن حجاج نے ان بزرگ کی خدمت میں درخواست کی کہ میرے حق میں دعا فرمائیے۔ حجاج کی یہ بات سن کر بزرگ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا، اے اللہ ! اس شخص…

نواز شریف اور ان کے بچوں کا مستقبل

شیخ سعدی کی ایک حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنی رعایا سے غافل تھا۔ بے انصافی اور ظلم کا عادی تھا۔ اس وجہ سے ملک تباہ و برباد تھا اور عوام مسائل کا شکار تھے۔ ایک روز وہ کم فہم اور ظالم بادشاہ اپنے دربار میں فردوسی کی مشہور رزمیہ نظم شاہنامہ سن…

دہشتگردی ختم کرنے کا شرطیہ نسخہ

کہتے ہیں ایک بادشاہ کی عدالت میں کسی ملزم کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے مقدمہ سننے کے بعد اس کے قتل کا حکم دیا۔ جب ملزم کوقتل گاہ کی جانب لے جایا جا رہا تھا تو اسے سوچ آئی کہ موت تو اب آکر ہی رہنی ہے تو اس نے بادشاہ کو برا بھلا کہنا شروع کر…