ایک دن بھمبور میوزیم میں

کراچی سے ٹھٹہ کی طرف جائیں تو یہ بتانے والا کوئی نہیں کہ دیبل کدھر ہے لیکن بھمبور سے سب واقف ہیں۔ نیشنل ہائی وے پر ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دھابیجی اور گھارو کے درمیان دیبل کی قدیم بندرگاہ کے آثار اور میوزیم ہے۔  میوزیم کے باہر ایک بورڈ پر…

مانکیالہ اسٹوپا، گندھارا تہذیب کی ایک یادگار

عالی دماغ چانکیا نے چندرا کو تلوار تھمائی تو اس کی تراش دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ پوتا دادا سے دو قدم آگے تھا۔ کلنگ میں اتنا خون بہایا کہ دل خونریزی سے ہمیشہ کے لیے بھر گیا۔ بادشاہ بھکشو بن گیا۔ پاٹلی پتر سے قندھار تک بدھا کے تبرکات دفن…

سہالہ ریلوے اسٹیشن کی سیر اور کچھ تجاویز

فرنگیوں نے سکھوں کو لگام دینے کے بعد پوٹھوہاری شیروں کو بیلٹ باندھنے کا پروگرام بنایا۔ راولپنڈی برٹش آرمی کی ناردرن کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر مقرر ہوا۔ لاہور اور پشاور کے درمیان ہنگامی بنیادوں پر ریلوے ٹریک بچھایا گیا۔ جگہ جگہ ریلوے اسٹیشن بنا…

خالقِ اسمِ وطن چوہدری رحمت علی

جس زبان میں بچے کو لوری دی جائے وہ اس کی محبوب ترین زبان ہوتی ہے۔ ماں بولی کا مقابلہ کوئی اور زبان نہیں کر سکتی۔ لیکن جس طرح بڑی مچھلی چھوٹی مچھلیوں کو کھا جاتی ہے اسی طرح بڑی زبانیں چھوٹی زبانوں کو نگل جاتی ہیں۔ معاشرے کے بیدار لوگ ان…

بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے – آزاد کشمیر کے یادگار مشاعرے کی روداد

(29 اکتوبر 2016 میں بزم دیار سخن بیٹھک، تحصیل بلوچ، سدھنوتی، آزاد کشمیر کے یادگار مشاعرے کی روداد) شاعری انسان کے خمیر میں ہے۔ لوری سے کتبے تک جذبوں کا موثر ترین ذریعہ اظہار شاعری ہی رہا ہے۔ کشمیر کی ادبی تنظیمیں اور تعلیمی اداروں کی لٹریری…

وزیراعظم کا کہوٹہ جلسہ، اور فرانس کی شہزادی

کہوٹہ میں کئی دن سے ہل چل مچی ہوئی تھی۔ انتظامی مشینری جلسے کی تیاریوں میں رات دن مصروف تھی۔ چہ مہ گوئیاں جاری تھیں کہ کہوٹہ اسلام آباد موٹر وے کا آٹھ سالہ پرانا وعدہ پورا ہونے جا رہا ہے۔ کہوٹہ میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان ہونے والا ہے۔…

بابا کھیم سنگھ بیدی کا محل جو اب زرفشاں نہیں رہا

جی ٹی روڈ سے کلرسیداں کا رخ کریں تو سڑک کی کشادگی اور نظارے کی وسعت طبیعت بحال کر دیتی ہے۔ شب بھر میں مسجد بنانے کا واقعہ تو آپ نے ضرور سنا ہو گا لیکن شاید یہ کم کم لوگوں کو پتا ہو کہ لیفٹننٹ گورنر پنجاب کی بگھی کے لیے روات اور کلر کے…

مکلی، جہاں پتھر کلام کرتے ہیں

ٹھٹھہ کبھی عالم میں انتخاب تھا۔ اس کی گلیاں جوان تھی۔ شہر کے اطراف میں نہریں رواں تھیں۔ دریا شہر کے کناروں کو چومتا ہوا گزرتا تھا۔ سمندری ہوائیں شہر میں اٹکھیلیاں کرتی پھرتی تھیں۔ ہر طرف باغات اور شادابی تھی۔ اس کے سرو اتنے دل کش تھے کہ…

میر عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے

بھنبھور میوزیم سے دیبل کے آثار کی طرف جائیں تو سمندری ہواؤں کے مست جھونکے آپ کا استقبال کرتے ہیں۔ دور سے ناتراشیدہ پتھروں کی پندرہ بیس فٹ اونچی فصیل دکھائی دیتی ہے۔ برابر فاصلوں پر بنے برجوں نے اسے قابلِ دید بنا دیا ہے۔ شہرِ پناہ کے کشادہ…

سسی کا شہر بھنبھور اور داہر کا دیبل

نیشنل ہائی وے پر کراچی سے ٹھٹھہ کی طرف جائیں تو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دھابیجی اور گھارو کے درمیان سسی کے شہر بھنبھور اور قاسم و داہر کے دیبل کے آثار ہیں۔ ساتھ ایک میوزیم ہے جس میں نوادرات کو زمانی ترتیب سے رکھا گیا ہے۔ میں نے بھنبھور…